پروگرامنگ کیا ہے؟
اسلام وعلیکم دوستو۔ پروگرامنگ کے ایک اور آرٹیکل میں خوش آمدید۔ میں امید کرتا ہوں
کہ آپ سب لوگوں کو پتا ہوگا کہ پروگرامنگ کیا ہے، نہیں پتا ہوتا تو آپ اس کے بارے میں کھوجتے ہی نہیں۔
چلیں اگر نہیں بھی پتا تو آج کے آرٹیکل میں آپ کو سب پتا چل جائے گا۔
لازمی بات ہے کہ آپ کسی کمپیوٹر یا کسی موبائل فون سے اس سب کو پڑھ
رہے ہوں گے۔اور یقیناً آپ اس چیز کو استعمال بھی کرتے ہوں گے۔چونکہ آپ نے
پروگرامنگ کرنی ہے تو کمپیوٹر تو آپ کے پاس ہوگا ہی۔ اگر نہیں ہے تو یہ خرچ تو آپ
کو کرنا ہی پڑیگا۔نہیں تو بغیر پریکٹیکل کے پروگرامنگ کرنا محال ہو جائیگا۔
کمپیوٹرز اور موبائل فونز آجکل ہماری زندگی میں داخل ہوچکے ہیں۔اب ہم خط
کی بجائے کالز یا ای میلز کا سہارا لیتے
ہیں۔یہ نہ صرف وقت بچاتے ہیں بلکہ پیسہ بھی۔جب میں نے کمپیوٹر لیا تھا تو مجھے پتا
بھی نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے، جیسے ہی آن کرتا تھا تو آئی بی ایم کا لوگو آتا تھا اور اس کے بعد ایک
کالی سکرین آجاتی تھی جو کہ کہہ رہی ہوتی تھی کہ میرے کمپیوٹر میں آپریٹنگ سسٹم ہی
نہیں ہے۔اس کے بعد میں چند بٹن پریس کرتا تھا تو چند بیپ کی آوازیں آتی تھیں اور
کمپیوٹر کی سکرین پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
پھر کمپیوٹر میں جب تک میں نے آپریٹنگ سسٹم انسٹال نہیں کیا تب تک کمپیوٹر کے
رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔کیونکہ پہلے کمپیوٹر کو کوئی چیز بتانے والی تھی ہی
نہیں کہ میں نے کام کیا کرنا یا کروانا ہے۔پھر ایک پروگرام نے میرا یہ مسئلہ حل کر
دیا تھا۔بالکل اسی طرح ہم اگر کوئی آڈیو ، ویڈیو یا پرنٹنگ ڈیوائس کسی کمپیوٹر کے ساتھ اٹیچ کردیں
تو وہ خود کام نہیں کریں گی بلکہ اُن پر
کام کرنے کےلئے کسی پروگرام کی ضرورت پڑتی ہے۔حقیقتاً ایک پروگرام کسی ہارڈوئیر کو
بتاتا ہے کہ اس ہارڈوئیر نے بالکل کس طرح کام کرنا ہے۔اگر آپ کسی پروگرام کے بغیر
اس ہارڈوئیر پر کام کر الیں گے تو یہ یقیناً آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ڈاس
کمانڈز اور ٹویکز بھی پروگرامنگ کی اقسام
ہیں۔ اگر آپ اس کارنامے کے ذریعے پروگرامنگ کے وجود کو ٹھکرانا چاہتے ہیں تو یہ خوش فہمی سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔خیر آپ لوگ
میرے اگلے آرٹیکل تک کوشش کریں، تب تک اجازت چاہتا ہوں۔ اللہ حافظ
نوٹ: یہ آرٹیکل گاہے بگاہے اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔
0 comments:
Post a Comment